Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
219 - 470
مِلَن اور پاکیزہ نسل کی بِشارت ہو۔‘‘
	پھر حضرتِ سیِّدُنا جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلام  نے آکر سلام عرض کیا اور مجھے بتایا کہ’’ یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے دُنْیا پر نظرِ رحمت فرمائی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ایک حبیب، بھائی اور دوست منتخب فرماکر اس کے ساتھ آپ کی بیٹی حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا نِکاح فرما دیا ہے۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے ساری جنّتوں  اور حوروں  کو آراستہ وپیراستہ ہونے، شجرِ طُوبیٰ کو زیورات سے مُزَیَّن ہونے اور ملائکہ کو چوتھے آسمان میں  بیتُ المعمور کے پاس جمْع ہونے کا حکْم دیا ہے، اوررِضوانِ جنت عَلَیْہِ السَّلامنے اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے حکم سے بیتُ المعمور کے دروازے پر منبرِکرامت رکھ دیا ہے۔ یہ وہی منبر ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے حضرتِ سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تمام اَشیاء کے نام سکھائے تھے تو اُنہوں  نے اس پر خطبہ دیا تھا۔
	پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے حکم سے اس منبر پر راحیل نامی فِرِشتے نے اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے شایانِ شان اس کی حمد و ثنا کی توآسمان فرحت وسرور سے جھوم اُٹھا۔ حضرتِ جبر ئیل عَلَیْہِ السَّلام  نے مزید یہ بھی بتایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے مجھے وحی فرمائی کہ ’’میں  نے اپنے محبوب بندے علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ) کا نِکاح اپنی محبوب بندی اور اپنے رسول کی بیٹی فاطِمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) سے کر دیا ہے، تم ان کا عقد ِ نِکاح کردو۔‘‘ پس میں  نے عقدِ نکاح کر دیا اور اس پر فِرِشتوں  کو گواہ بنایا اور اللہ