Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
21 - 470
 کا سامان کرتے ہیں ۔
باغ جنّت کے  ہیں  بہرِ مدح  خوانِ اہلِ بیت
تُم کو مُثردہ  نار کا   اے دُشمنانِ  اہلِ  بیت
(ذَوقِ نعت از شَھَنْشَاہِ سُخَن مولانا حَسَن رضا خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن)
یعنی اہلِ بیت کی تعریف وتوصیف کرنے والوں  کے لئے جنت کے باغات ہیں  اور اے اہلِ بیت کے دُشمنو! تمہارے لئے دوزخ کی بشارت ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ!		اَسْتَغْفِرُاللہ      
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	خوش نصیب ہیں  وہ لوگ جو اَہلِ بَیت کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مَحَبَّت کرتے ہیں  اور اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ  وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رِضا پاتے ہیں  کیونکہ شاہِ ہر دوسرا، والِدِ فاطِمۃُالزَّہراء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خوش کرنے والی چیز حضرتِ فاطِمۃُ الزَّہراء و آلِ فاطِمہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مَحبت و عقیدت ہے اور جسے خوش قسمتی سے رسولِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رِضا حاصِل ہوگئی اُسے ربّ تعالیٰ کی رِضا مل گئی کیونکہ
خدا کی رِضا چاہتے ہیں  دو عالَم
خدا چاہتا ہے  رِضائے  محمد
(حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت)