چہرۂ انور خوشی ومَسَرَّ ت سے کِھل اُٹھا۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ الْکَرِیْمکو دیکھ کر مسکرائے اور اِستِفسار (یعنی دریافت) فرمایا: ’’ اے علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا حق مہر ادا کر سکو؟‘‘ حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرْض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ پر میری حالت پوشیدہ نہیں ، میرے پاس میری زِرَہ(1)، تلوار اور پانی بھرنے کے لئے ایک اونٹ کے سِوا کچھ نہیں ۔‘‘ تو دافِعِ رنج ومَلال، صاحب ِجُودو نوال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’ اپنی تلوار سے تو تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جِہاد کرو گے لہٰذا اس کے بغیر گزارہ نہیں اور اونٹ سے اپنے گھر والوں کے لئے پانی بھر کرلاؤ گے اور سفر میں بھی اس پر اپنا سامان لادو گے، لیکن زِرَہ کے بدلے میں ، مَیں اپنی بیٹی کا نِکاح تم سے کرتاہوں اورمیں تم سے خوش ہوں ، اور اے علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! تمہیں مُبارَک ہوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے زمین پر فاطِمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) سے تمہارا نِکاح کرنے سے پہلے آسمان میں تم دونوں کا نِکاح کر دیا ہے اور تمہارے آنے سے پہلے آسمانی فرِشتہ میرے پاس حاضِر ہوا جس کو میں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ اس کے کئی چہرے اور پَر تھے، اس نے آکرکہا: ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللہ! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مُبارَک
________________________________
1 - … فولاد کا جالی دار کُرتاجو لڑائی میں پہنتے تھے۔ (فیروز اللغات ص۷۸۹)