Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
215 - 470
	سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’اے علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! کوئی کام ہے تو بتاؤ، ہمارے ہاں  ! تمہاری ہر حاجت پوری ہو گی۔‘‘ حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرْض کی: ’’ یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ! میرے ماں  باپ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرقربان! آپ جانتے ہیں  کہ آپ نے مجھے اپنے چچا اورچچی فاطِمہ بنتِ اسد سے لیا، میں  اس وقْت ایک ناسمجھ بچہ تھا۔ آپ نے میری رہنمائی فرمائی، مجھے ادَب سکھایا، مجھے شائستہ (شا۔اِس۔تَہ یعنی بااَخلاق) بنایا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ پر ماں  باپ سے بڑھ کر شفقت واِحسان فرمایا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذریعے مجھے ہدایت بخشی۔ یَارَسُولَ اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! آپ ہی دُنْیا وآخِرت میں  میرا وسیلہ اور ذخیرہ ہیں  ، اور میں  یہ پسند کرتاہوں  کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ    آپ کے ذریعے میری پشت پناہی اس طرح فرمائے کہ میرا بھی ایک گھر اور بیوی ہو، میں  جس میں  چین حاصِل کروں ۔  لہٰذا میں  آپ کی بارگاہ میں  آپ کی شہزادی فاطمہ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  ) کے لئے نکاح کا پیغام لے کر حاضر ہوا  ہوں ۔(اَلرَّوْضُ الْفَائِق، المجلس الثامن والاربعون فی زواج علی  ابن ابی طالب بفاطمۃ۔۔۔الخ، ص۲۷۵، ملخصاً)