Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
214 - 470
اور بارگاہِ رِسالت میں  حاضِر ہو کر اپنا مُدَّعا پیش کرنے کا مشورہ دیا۔
سیِّدُنا علی کی بارگاہِِ رِسالت میں  حاضِری
	حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اپنے کام سے واپس آ کر حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر کی طرف چل دئیے، دروازہ کھٹکھٹایا، حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نے پوچھا: ’’کون؟‘‘ تو سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’اُٹھو اور دروازہ کھولو، یہ وہ ہیں  جن سے اللہ عَزَّوَجَلَّ   اور اس کارسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَحبت کرتے ہیں  اور یہ بھی ان سے مَحبت کرتے ہیں ۔‘‘ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرْض کی: ’’میرے ماں  باپ آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پر قربان! یہ کون ہیں  ؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’یہ میرا بھائی ہے اور مجھے ساری مخلوق سے بڑھ کر پیارا ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدَتُنااُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں  : ’’میں  اس تیزی سے اٹھی کہ چادر میں  اُلجھنے لگی تھی۔ میں  نے دروازہ کھولا تودیکھا کہ حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہہیں  ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے حاضِرِ خدمتِ اَقدَس ہوکر سلام عرْض کیا اور سامنے بیٹھ گئے اور زمین کُرَیدنے لگے گویاکچھ کہنا چاہتے ہیں  لیکن حَیاکا پردہ حائل ہے۔