Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
213 - 470
اُڑتے غُبار کی مانند ہے ۔‘‘(اَلرَّوْضُ الْفَائِق،المجلس الثامن والاربعون فی زواج علی ابن ابی طالب بفاطمۃ۔۔۔الخ، ص۲۷۵، ملخصاً)
اَسلافِ کِرام کا مُبارَک شِعار
	 پیاری پیاری اسلامی بہنو! اپنے مسلمان بہن بھائی کی ضرورت کا احساس کرنا اور اس ضرورت کی تکمیل کے لئے حتَّی الا ِمکان دامے دَرمے قدمے سُخنے (یعنی روپے پیسے جان اور زَبان ہر طرح سے) مدد کرنا اور مدد کی نِیَّت کرنا ہمارے اَسلافِ کِرام کا مُبارَک شِعار ہے۔ اور ان مُبارَک ہستیوں  کا وطیرہ رہاہے کہ دینی و نسبی طور پر خواہ کتنا ہی فضل وشرَف عطا ہو جائے اپنا بوجھ خود ہی اٹھایا جائے اور محنتِ شاقّہ کی تکالیف گوارا کرکے خود اپنی دُنْیاوی ضرورِیّات پوری کرنے کا سامان کیا جائے۔ بارگاہِ رِسالت کے تربِیّت یافتگان کے قُلوب واَذہان میں  یہ بات راسِخ ہو چکی تھی کہ دینِ اسلام دُنْیا اور اَسبابِ دُنْیاکو اَہَمِّیَّت  نہیں  دیتا بلکہ رِضائے الٰہی اور قضائے خداوندی کے آگے سرنِگُوں  ہونا (یعنی سر جھکانا) سکھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ دُنْیاوی جاہ وحشمت (یعنی عزَّت وشوکت) اور سیم وزر(یعنی مال ودولت) کی حیثیت ڈھلتی چھاؤں  اور اُڑتے غُبار کی سی ہے۔ نگاہِ اسلام میں  عزّت وقبولِیّت کا مدار تقویٰ واخلاص پر ہے۔ اسی بِناپر ان صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا حوصلہ بڑھایا