Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
212 - 470
وَجْہَــــہ الْکَرِیْم کے پاس چل کران سے شہزادیٔ رسول  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا مُعامَلہ ذکْرکرنا چاہئے اور اگر وہ تنگ دستی کو وجہ بنائیں  تو ان کی مدد کرنی چاہئے ۔‘‘ پھر یہ سب حضراتِ والا عزّت حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی تلاش میں  چل دئیے، پتا چلا کہ وہ اس وقْت کسی انصاری کے باغ میں  اُجرت پر اونٹوں  کے ذریعے پانی نکالنے میں  مصروف ہیں ۔ وہاں  جب ملاقات ہوئی تو حضرتِ سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے اِرشاد فرمایا: ’’اے علی! (بات یہ ہے کہ) قریش کے مُعزَّزین نے بنت ِ رسول کے لئے پیغامِ نکاح دیا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ ’’یہ مُعامَلہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے سپرد ہے۔‘‘ اور( ہم دیکھتے ہیں  کہ) آپ ہر اچھی عادت سے کامِل طور پر مُتَّصِف ہیں  اور حُضور سیِّد ِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قَرابت دار بھی ہیں  ، مجھے امید ہے کہ اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ  وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کا مُعامَلہ آپ کے لئے روکا ہوا ہے۔‘‘ راوی فرماتے ہیں  : ’’حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی آنکھیں  اَشک بار ہو گئیں  اورفرمایا: ’’اے ابوبکر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! غربت نے مجھے اس سے روک رکھا ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ نے فرمایا: ’’اے علی! ایسا نہ کہو! اللہ عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نزدیک دُنْیا اور جو کچھ اس میں  ہے،