خداوندی کے ساتھ مخصوص ذاتِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواباً اِرشاد فرمایا:’’ میں خدائی فیصلے کا مُنتظِر ہوں ۔‘‘
حضرتِ سیِّدُناابو بکرصِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہاور حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے بھی پیغامِ نِکاح عرْض کیاتو ان سے بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہی اِرشاد فرمایا: ’’یہ مُعامَلہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپُرد ہے۔‘‘
ابوبکْر و عُمَر کی سیِّدُنا علی کو ترغیب
ایک دن حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ، حضرتِ سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہاورحضرتِ سیِّدُنا سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہمسجد ِنبوی شریف عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں تشریف فرما تھے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا ذکر ِ خیر چل نکلا توحضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے اِرشاد فرمایا: ’’تمام معزَّزِین نے پیغامِ نِکاح عرْض کیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انکار کرتے ہوئے یہی اِرشاد فرمایا: ’’یہ مُعامَلہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد ہے۔‘‘ لیکن حضرتِ علی (کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَــــہُ الْکَرِیْم) نے پیغامِ نِکاح عرْض نہیں کیا اور نہ ہی اس کا تذکِرہ کیا۔ اس کی وجہ میرے خَیال میں ان کی غربت ہو سکتی ہے۔ ہمیں حضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی