سے فائدہ کیا؟ شیخ عبدُالحق (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) فرماتے ہیں کہ مجھے عبدُ الوہّاب مُتَّقِی (عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) جب بھی مدینہ (زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا) سے وداع کرتے تو فرماتے کہ سفرِ حج میں فرائض کے بعد دُرود سے بڑھ کر کوئی دُعا نہیں ، اپنے سارے اوقات دُرود میں گھیرو اور اپنے کو دُرود کے رنگ میں رنگ لو۔ (مراٰۃ المناجیح، کتاب الصلاۃ، باب الصلوٰۃ علی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وفضلھا، الفصل الثانی، ج۲، ص۱۰۳، ملتقطاً)
وِرْدِ لب ہر دم دُرودِ پاک ہو
یا شہِ عَرَب و عجم! چَشمِ کرَم
(وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۲۲۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سیِّدَہ فاطِمہ کا نِکاح
حضرتِ سیِّدُنا شیخ شُعیب حریفیش عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر فرماتے ہیں : جب آسمانِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر حضر تِ سیِّدَتُنا فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا آفتابِ حسن وجمال چمکا اور اُفُقِ عظَمت وجلال پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا بدرِ کمال طُلوع ہوا، تونیک خصلت ذہنوں میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا خَیال آیا، مُہاجِرین و انصار کے مُعزَّزین نے پیغامِ نِکاح دیا۔ لیکن رِضائے الٰہی وقضائے