Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
209 - 470
’’مِراٰۃُ المَناجیح‘‘ جلد2 صفْحہ103 پر اِس حدیثِ پاک کی شرْح میں  فرماتے ہیں  : یعنی (حضرتِ سیِّدُنا اُبَیّ بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے عرْض کی کہ میں  ) سارے وظیفے دعائیں  چھوڑ دوں  گا سب کی بجائے دُرود ہی پڑھوں  گا کیونکہ اپنے لیے دعائیں  مانگنے سے بہتر یہ ہے کہ ہر وقْت آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو دعائیں  دیا کروں  (جس کے جواب میں  سروَرِکائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیسی پیاری بِشارت سے نوازا) یعنی اگر تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری دین و دُنْیا دونوں  سنبھل جائیں  گی، دُنْیا میں  رنج و غم دَفْع ہوں  گے، آخِرت میں  گناہوں  کی مُعافی ہو گی۔
	اسی بِنا پر عُلَما فرماتے ہیں  کہ جو تمام دعائیں  وظیفے چھوڑ کر ہمیشہ کثرت سے دُرود شریف پڑھا کرے تو اسے بغیر مانگے سب کچھ ملے گا اور دین و دُنْیا کی مشکِلیں  خود بخود حل ہوں  گی۔ پتا لگا کہ حُضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پر دُرود پڑھنا درحقیقت ربّ (عَزَّوَجَلَّ ) سے اپنے لیے بھیک مانگنا ہے ہمارے بھکاری ہمارے بچوں  کو دعائیں  دے کر ہم سے مانگتے ہیں  ہم ربّ (عَزَّوَجَلَّ ) کے بھکاری ہیں  ، اس کے حبیب (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)  کو دعائیں  دے کر اس سے بھیک مانگیں  ، ہمارے دُرود سے حُضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا بھلا نہیں  ہوتا بلکہ ہمارا اپنا بھلا ہوتا ہے، اس تقریر سے یہ اِعتِراض بھی اٹھ گیا کہ جب حُضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر ہر وقْت رحمتوں  کی بارِش ہو رہی ہے تو ان کے لیے دعائے رحمت کرنے