سمجھاتی مگر وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ! میں دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرتی تھی اور اجتماع میں مانگی جانے والی دعاؤں کی قبولِیّت کے واقعات بھی سنا کرتی تھی۔ چُنانچِہ ایک مرتبہ میں نے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے گیارہویں شریف کے اِجتماعِ ذکرو نعت میں اپنی بیٹی کی اصلاح کے لئے گڑ گڑا کر دُعا مانگی۔ میری خواہش تھی کہ میری بیٹی بھی دعوتِ اسلامی کیمُبَلِّغہ بنے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ ! میری دُعا قبول ہوئی اور میری بیٹی کسی نہ کسی طرح اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتِماع میں شریک ہونے پر رِضامند ہو گئی۔ اس نے جب شرکت کی تو اتنیمُتَأَثِّرہوئی کہ بس دعوتِ اسلامی ہی کی ہو کر رہ گئی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ! ترقّی کی منزِلیں طے کرتے کرتے (تادمِ تحریر) میری بیٹی حلقہ ذِمّہ دار کی حیثِیَّت سے سنّتوں کی خدمتوں میں مشغول ہے۔
گر پڑ کے یہاں پہنچا مَر مَر کے اسے پایا
چھوٹے نہ الٰہی اب سنگِ درِ جانانہ
(سامانِ بخشِش از مفتیٔ اعظم ہند رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے