Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
202 - 470
بصورتِ سوالات عطا فرمایا ہے ، چُنانچِہ مدَنی انعام نمبر22 میں  ہے: کیا آج آپ نے گھر کے افراد کے عِلاوہ (کپڑے، فون، زیورات وغیرہ) چیزیں  دوسروں  سے مانگ کر تو اِستِعمال نہیں  کیں  ؟ یقینا دوسروں  سے سوال کرنے سے بچنے والے لوگ ہر ایک کی نگاہ میں  قابلِ قدر ٹھہرتے ہیں  جیسا کہ شیخ مُصلِحُ الدِّین سَعْدِی شیرازی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے ایک حکایت نقْل کی ہے کہ عرب کے مشہور اور بہت بڑے سخی حاتِم طائی سے کسی نے پوچھا: کیا تو نے اپنے سے زیادہ کسی کو ہمّت وحوصلے والا دیکھا ہے؟ جواب دیا: ہاں  ! ایک دن میں  نے 40 اُونٹ ذبح کرکے عرب کے مال داروں   کو مدعو کیا۔ اس دوران میراگزر ایک جنگل کی طرف سے ہوا دیکھا کہ ایک غریب ومُفلِس شخص جو مجھے نہیں  جانتا تھا، لکڑیاں  جمع کرنے میں  مشغول تھا، میں  نے اسے مخاطَب کرتے ہوئے کہا: اے بھلے انسان! حاتم طائی کے گھر شہر بھر کے لوگ جمع ہیں  اور دعوت کھا رہے ہیں  ، تم اپنی روٹی کے لئے یہاں  محنت ومزدوری کر رہے ہو۔ اس غریب لیکن قانع ومعزَّز شخص نے جوا ب دیا: جو اپنی محنت سے روٹی کماتا ہے اسے حاتم طائی جیسے امراکی مِنّت نہیں  کرنی پڑتی۔ حاتم طائی نے کہا:’’ حق یہ ہے کہ میں  نے اسے اپنے سے زیادہ باہمت وجواں  مرد دیکھا۔‘‘(حکایات ِ سَعْدِی(مُتَرْجَم)، ص۱۵۶)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد