Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
201 - 470
دب کر حاجت مندوں  کی حاجت روائی کرنا ہم پر لازم نہیں  لیکن کیا ہم ضرورت سے زائد اشیاء کو صدَقہ وخیرات کرنے کاذہن رکھتے ہیں  یا مزید کے ہی چکر میں  رہتے ہیں  ، بچ جانے والا کھانا فریز کرتے ہیں  یا خیرات؟ مستحق کو مال سے نوازتے ہیں  یا جھڑکیوں  سے؟
	صحابہ واہلِ بیتِ اَطہار بالخصوص حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ایثار وسخاوت کی طرف نظر کیجئے اوراپنی حالتِ زار کو بھی دیکھئے خود ہی واضح ہو جائے گا کہ ہمارے، اَسلافِ اُمّت سے محبت کے دعوے میں  کتنی جان ہے؟ صرف خیرات نہ کرنے کی ہی بات نہیں  ، افسوس بالائے افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں  اَفراد کی ایک ایسی تعداد موجود ہے جو دوسروں  کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے میں  تھکتے ہیں  نہ شرماتے ہیں ۔ بے مُرُوَّتی اس حد تک بڑھی ہوئی ہے کہ معمولی سی چیز بھی مانگ مانگ کر اِستِعمال کرتے اور سوال کر کر کے گزارہ کرتے ہیں ۔ 
	شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس پُرفِتَن دَور میں  آسانی سے نیکیاں  کرنے اور گناہوں  سے بچنے کے طریقوں  پر مشتمل شریعت وطریقت کا جامع مجموعہ (اسلامی بہنوں  کے لئے) بنام ’’63 مدَنی انعامات‘‘