Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
200 - 470
 {2}…جو کسی مسلمان کو بھوک میں  کھانا کھلاکر سیر کر دے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ   اُسے جنّت میں  اُس دروازے سے داخِل فرمائے گا جس میں  سے اس جیسے لوگ ہی داخِل ہوں  گے۔
(اَلْمُعْجَمُ الْکبِیْر لِلطَّبَرَانِی، باب المیم، معاذ بن جبل الانصاری…الخ، ج۸،ص۴۱۸،الحدیث:۱۶۵۸۹)
کھلانے پلانے کی توفیق دے دے
پئے شاہِ کرب و بلا یا الٰہی!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رحمتِ اِلٰہی کو واجب کرنے والا عمل!
	حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبدُ اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ سے مروی ہے کہ رسولِ اَکرَم، نورِ مجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ مُعظَّم ہے: ’’مِنْ مُوْجِبَاتِ الرَّحْمَۃِ اِطْعَامُ الْمُسْلِمِ الْمِسْکِیْنَ یعنی رحمتِ الٰہی کو واجب کردینے والی چیزوں  میں  سے مسکین مسلمان کو کھانا کھلانا ہے۔‘‘
(اَلتّرْغِیْب وَالتّرْھِیْب،کتاب الصدقات، الترغیب فی اطعام الطعام وسقی الماء۔۔۔الخ، ص۳۲۰، الحدیث:۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ذرا غور کیجئے!
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! ان واقعات کے تناظُر میں  اگر ہم اپنی حالت پر غور کریں  تو اگرچہ اشیائے ضرورت کو بھی خیرات کردینا اوربارِ قرض تلے