زیادہ ہوں تو خود کم کھاکر یا بالکل نہ کھا کر نیز اسی طرح کے بے شمار مَواقِع پر اپنے نفس کو تھوڑی سی تکلیف دے کر مُفت میں ایثارکاثواب کمایا جاسکتاہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کِھلانے پلانے کا عظیمُ الشّان ثواب
پیاری پیاری اسلامی بہنو!سیِّدَہ خاتونِ جنّترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فاقوں کے باوُجُود اپنا کھانا ایثار فرما دیتی تھیں ! مگر افسوس! اہلِ بیتِ نُبُوَّت کی محبت کا دم بھرنے کے باوجُود ہم اپنی ضرورت کا کُجا، بچا کُھچا کھانا بھی کسی کو پیش کرنے کے بجائے آیندہ کیلئے فریج میں رکھ چھوڑتے ہیں ۔ یقین مانئے! بھوکوں کو کھانا کھلانا اور پیاسوں کو پانی پلانا بڑے ثواب کا کام ہے۔ اِس ضِمن میں دو فرامینِ مصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مُلاحَظہ ہوں :
{1 }… جو مسلمان کسی مسلمان کو بھوک میں کھانا کھِلائے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بروزِ قیامت جنت کے پھل کھلائے گا اور جو کسی مسلمان کو پیاس میں پانی پلائے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بروزِ قِیامت مُہر والی پاک وصاف شراب پلائے گا او ر جو مسلمان کسی بے لباس مسلمان کو کپڑا پہنائے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے جنّتکے سبز کپڑے پہنائے گا۔ (جَامِعُ التِّرْمِذِی،کتاب صفۃالقیامۃوالرقائق والورع، ص۵۸۱، الحدیث:۲۴۴۹)