Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
197 - 470
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں  اس عورت کے اِیثار کا بیان کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ  تعالیٰ نے اس(ایثار)کی وجہ سے اس عورت کے لئے جنّت کو واجب کر دیا۔‘‘(صَحِیْح مُسْلِم،کتاب البر والصلۃ ،باب فضل الاحسان الی البنات، ص۱۰۱۴، الحدیث:۲۶۳۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اپنا کھانا کتّے پر ایثار کر دیا !
	حضرتِ سیِّدُنا امام ابو قاسم عبدا لکریم بن ہوازن قشیری عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقوی  فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُنا عبدُ اللہ بن جعفر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَرْ  اپنی کسی زمین کو دیکھنے نکلے اور اَثنائے راہ (یعنی راستے میں  ) کسی باغ میں  اُترے، وہاں  ایک غلام کو کام کرتے دیکھا، جب اُس کے پاس کھانا آیا تو کہیں  سے ایک کُتّا بھی آپہنچا، غلام نے ایک ایک کرکے 3 روٹیاں  اُس کے آگے ڈالیں  ، وہ کھا گیا۔ حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن جعفر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَرْ نے غلام سے پوچھا: آپ کو دن میں  کتنا کھانا ملتا ہے؟عرْض کی: وہی جو آپ نے دیکھا۔ پوچھا: تو آپ نے کتّے پر کیوں  ایثار کر دیا؟ عرْض کی: اِس عَلاقے میں  کتّے نہیں  ہوتے، یہ کہیں  دُور سے آ نکلا ہے، غریب بھوکا تھا، مجھے یہ گوارا نہ ہوا کہ میں  سیر ہو کر کھاؤں  اور یہ بے چارہ بے زبان جانور بھوکا رہے۔ فرمایا: آپ آج کیا کھائیں  گے؟ عرْض کی: فاقہ کروں  گا ۔ حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن جعفر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَرْ