صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اس عورت کے اِیثار کا بیان کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اس(ایثار)کی وجہ سے اس عورت کے لئے جنّت کو واجب کر دیا۔‘‘(صَحِیْح مُسْلِم،کتاب البر والصلۃ ،باب فضل الاحسان الی البنات، ص۱۰۱۴، الحدیث:۲۶۳۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اپنا کھانا کتّے پر ایثار کر دیا !
حضرتِ سیِّدُنا امام ابو قاسم عبدا لکریم بن ہوازن قشیری عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقوی فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُنا عبدُ اللہ بن جعفر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَرْ اپنی کسی زمین کو دیکھنے نکلے اور اَثنائے راہ (یعنی راستے میں ) کسی باغ میں اُترے، وہاں ایک غلام کو کام کرتے دیکھا، جب اُس کے پاس کھانا آیا تو کہیں سے ایک کُتّا بھی آپہنچا، غلام نے ایک ایک کرکے 3 روٹیاں اُس کے آگے ڈالیں ، وہ کھا گیا۔ حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن جعفر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَرْ نے غلام سے پوچھا: آپ کو دن میں کتنا کھانا ملتا ہے؟عرْض کی: وہی جو آپ نے دیکھا۔ پوچھا: تو آپ نے کتّے پر کیوں ایثار کر دیا؟ عرْض کی: اِس عَلاقے میں کتّے نہیں ہوتے، یہ کہیں دُور سے آ نکلا ہے، غریب بھوکا تھا، مجھے یہ گوارا نہ ہوا کہ میں سیر ہو کر کھاؤں اور یہ بے چارہ بے زبان جانور بھوکا رہے۔ فرمایا: آپ آج کیا کھائیں گے؟ عرْض کی: فاقہ کروں گا ۔ حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ بن جعفر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْبَرْ