حضرتِ سیِّدُنا شیخ شعیب حریفیش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدَتُنا رابعہ عدویہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے ننگے پاؤں پیدل بیتاللہ شریف کا حج کیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کو جو بھی کھانا عطا فرماتا اس کو ایثار کر دیتیں ۔ کعبہ مشرَّفہ پہنچتے ہی بے ہوش ہو کر گر پڑیں ۔ ہوش میں آنے کے بعد اپنے رخسار کو بیتُ اللہ شریف پر رکھ کرعرض کی: ’’یہ تیرے بندوں کی پناہ گاہ ہے اور تو ان سے محبت کرتا ہے اب تو آنکھوں میں آنسو ختم ہو گئے ہیں ۔ ‘‘
(اَلرَّوْضُ الْفَائِق، المجلس الثامن فی ذکر حجاج بیت اللہ الحرام ،ص۶۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اِیثار کرنے والی ماں
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطْبوعہ188 صَفْحات پر مُشْتَمِل کتاب’’ تربیّتِ اولاد ‘‘ صَفْحَہ61پرہے: اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ۔ میں نے اسے تین کھجوریں دیں ۔ اس نے ہر ایک کو ایک کھجور دی اور ایک کھجور خود کھانے کے لئے اپنے منہ کی طرف اٹھائی تو اس کی دونوں بیٹیاں اس کی بھی خواہش کرنے لگیں تو اس نے وہ کھجور بھی دو ٹکڑے کر کے اپنی دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کر دی۔
مجھے اس واقعہ سے بہت تعجُّب ہوا، میں نے رسولِ اَکرَم، نُورِ مُجسَّم،