کی ایک مچھلی مدینۂ منوَّرہزَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں مل گئی، میں نے اُسے بُھون کر خدمتِ سراپا سخاوت میں پیش کر دی ، اتنے میں ایک سائل آگیا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : نافِع !یہ مچھلی سائل کو دے دو ۔ میں نے عرْض کی: آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اس کی بڑی خواہِش تھی اس لیے کوشِش کر کے یہ مدینے کی مچھلی میں نے خریدی ہے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اِسے تناوُل فرمالیجئے، میں اس مچھلی کی قیمت سائل کو دے دیتاہوں ۔ فرمایا: نہیں تم یہ مچھلی ہی اس کو دے دو۔ چُنانچِہ میں نے وہ مدینے کی مچھلی سائل کو دے دی اور پھر پیچھے جاکر اُس سے خریدلی اورآکر حاضِر کردی ۔ ارشاد فرمایا: یہ مچھلی اُسی سائِل کو دے دو اورجو قیمت اُس کو ادا کی ہے وہ بھی اُسی کے پاس رہنے دو۔ میں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا ہے: جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اُ س خواہِش کو روک کر اپنے اوپر(کسی اور کو) تَرجیح دے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بخش دیتا ہے۔
(اِحْیَاءُ الْعُلُوْم، کتاب کسر الشھوتین، بیان طریق الریاضۃ فی کسر شھوات البطن، ج۳، ص۱۱۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رابعہ عدویّہ کا ایثار
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ649 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب’’حکایتیں اور نصیحتیں ‘‘ صَفْحَہ119پر مبلِّغِ اسلام