مال مسلمانوں کومحبوب ہو اور اُسے رِضائے الٰہی کیلئے خرچ کرے وہ اِس آیت میں داخِل ہے خواہ ایک کھجور ہی ہو۔
(تَفْسِیْرِ کبیر، پ۴، اٰلِ عمران، تحت الاٰیۃ:۹۲، ج۳، ص۲۸۹ )
دے جذبہ تو ایسا ترے نام پر دوں
پسندیدہ چیزیں لُٹا یا الٰہی!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اَسلافِ اُمّت آئینۂٔ قرآن وسنّت تھے
ہمارے اَسلافِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام قراٰن وسنّت پرکس قدَر عمل پیرا تھے کہ ایک چیز کی خود کو طلب ہونے اور تلاشِ بسیار (یعنی کافی ڈھونڈنے) کے بعد ملنے کے باوجود دوسرے کو ایثار کردینے کی اعلیٰ مثال قائم فرماتے۔ اپنے اندر ایثار کا جذبہ بیدار کرنے کے لئے شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا 44 صفْحات پر مُشتمِل رسالہ ’’مدینے کی مچھلی‘‘ کا مُطالَعہ کیجئے۔ ترغیب کے لئے اسی رسالے سے ایک روایت پیشِ خدمت ہے : حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہبن عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیمار تھے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھنی ہوئی مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکے خادِم حضرتِ سیِّدُنا نافِع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہٗ فرماتے ہیں :تلاشِ بسیار(یعنی بہت زیادہ تلاش کرنے) کے بعد مجھے ڈیڑھ درہم