لے کر جاگ اُٹھی! کیا دیکھتی ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنا چاند سا چِہرہ چمکاتے ہوئے جلوہ فرما ہیں ، نیز ایک مُعَمَّر (مُ۔عَمْ۔مَر) مبلِّغ دعوتِ اسلامی سر پر سبز سبز عمامہ شریف سجائے قدموں میں حاضِر ہیں ۔ سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لَبہائے مبارَکہ کو جُنبِش ہوئی، رَحمت کے پھول جَھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے:چَپَّل ایثار کرتے وَقت تمہاری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ’’کیا دعوتِ اسلامی کی خاطِر میں اِتنی قربانی بھی نہیں دے سکتی!‘‘ ہمیں بَہُت پسند آئے۔ (علاوہ اَزیں بھی حوصلہ افزائی فرمائی)۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو! یہ بھی یاد رہے ایسی چیز ایثار کرنازیادہ افضل ہے کہ جو ہمیں خود پسند ہو جیسا کہ پارہ4 سُوْرَۂ اٰلِ عِمْرٰن کی آیت نمبر 92 میں ارشادِ خدائے رَحْمٰنہے:
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ (پ۴،اٰل عمرٰن: ۹۲)
ترجَمۂ کنزالایمان: تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔
آیتِ مبارَکہ کی تفسیر
صدرُ الافاضِل حضرتِ علَّامہ مولانا سیِّد حافظ مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی خزائنُ الْعِرفانمیں اِس آیتِ مبارَکہ کے تَحت نقْل فرماتے ہیں : (حضرتِ سیِّدُنا) حَسَن(بصری) عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا قول ہے :جو