Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
192 - 470
عَزَّوَجَلَّ  چاہے تو آخرت میں  عطا فرمائے گا مگر بعض اوقات دنیا کے اندر بھی انعام مل جاتا ہے، مثلاً کوئی مشکل آسان ہو گئی، اچھا خواب نظَر آ گیا، مدینے شریف کا ویزہ مل گیا۔ ایک اسلامی بہن کے ساتھ پیش آنے والی اسی طرح کی ایک  مَدَنی بہار مختصراً پیشِ خدمت ہے ، چُنانچِہ  دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہکے مطبوعہ32صفْحات پر مُشْتَمِل رسالے ’’پُراَسرار بھکاری‘‘ صَفْحَہ 28 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابوبلال  محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نقْل فرماتے ہیں  : بمبئی کے ایک عَلاقے میں  تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک  دعوتِ اسلامی کی طرف سے اسلامی بہنوں  کے ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماع (پیر شریف۲۲صَفَرُ الْمُظَفَّر۱۴۲۸؁ھ بمطابق 12.3.2007)  کے اختِتام پر ایک ذمّے دار اسلامی بہن کے پاس کسی نئی اسلامی بہن نے اپنی چپّل کی گُمشُدَگی کی شکایت کی۔ ذمّے دار اسلامی بہن نے اِنفِرادی کوشش کرتے ہوئے اُسے اپنی چپّل کی پیش کش کی۔ وہاں  موجود ایک دوسری اسلامی بہن جن کو مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوئے ابھی تقریباً سات ہی ماہ ہوئے تھے، اُس نے آگے بڑھ کر یہ کہتے ہوئے کہ’’ کیا دعوتِ اسلامی کی خاطِر میں  اتنی قربانی بھی نہیں  دے سکتی!‘‘ بِاِصرار اپنی چپّلیں  پیش کر کے اُس نئی اسلامی بہن کوقبول کرنے پر مجبور کر دیا اور خودپابَرَہْنہ (یعنی ننگے پاؤں  ) گھر چلی گئی۔ رات جب سوئی تو اُس کی قسمت انگڑائی