Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
191 - 470
	پیاری پیاری اسلامی بہنو!  عطائے مصطفٰے پر بھی قربان کہ خود کو ضرورت ہونے کے باوجود اِیثار کی اَعلیٰ مِثال قائم کرتے ہوئے صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کو چادَر عطا فرما دی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا کتناپیارا عقیدہ تھا کہ وہ نبیِّ رَحمت، شفیعِ اُمّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسبت رکھنے والی چیز کو اپنے ساتھ قبر میں  لے جانے کو عین سعادَت سمجھتے تھے۔ یقینا اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی راہ میں  ایثار کا ثواب بے شُمار ہے، ایثار کی فضیلت کے متعلِّق سروَرِ ذیشان، رحمتِ عالَمِیّان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے: جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اُ س خواہِش کو روک کر اپنے اُوپر(کسی اور کو) تَرجیح دے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے بخش دیتا ہے۔
 (کنز العمال،کتاب المواعظ والرقائق والخطب والحکم ،الباب الاول فی المواعظ والرغیبات،ج۹،ص۳۳۲،الحدیث:۴۳۱۰۵)
واہ کیا جُود و کرَم ہے شہِ بَطْحا تیرا
’’نہیں  ‘‘ سنتا ہی نہیں  مانگنے والا تیرا
(حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایثار کی مَدَ نی بہار
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! ہر نیکی کی طرح ایثار کا ثواب بھی اللہ