اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تہبند تھی ایک شخص نے اس کو ٹٹولا اور عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ چادر مجھے پہنادیجئے ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ہاں ، (تجھے پہناؤں گا ) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جتنی دیر اللہنے چاہا مجلس میں تشریف فرما رہے پھر واپس تشریف لائے اس چادر کو لپیٹااوراس(طلب کرنے والے) کی طرف بھیج دی لوگوں نے اس کو کہا: جب تم جانتے ہو کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی سائل کو واپس نہیں لوٹاتے تو تم نے چادر کا سوال کرکے اچھا نہیں کیا۔ اُس نے جواب دیا: ’’وَاللہِ مَا سَاَلْتُہٗ اِلَّا لِتَکُوْنَ کَفَنِیْ یَوْمَ اَمُوْتُیعنی اللہ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ کی قَسَم! مَیں نے یہ مبارَک چادَر فقَط اس لئے مانگی ہے تاکہ یہ میرا کَفَن بنے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُناسَہْل بن سَعْد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : یہی مُبارَک چادَر بعد میں اُس شخْص کا کَفَن بنی۔
(صَحِیْحُ الْبُخَارِی، کتاب اللباس، باب البرود والحبرۃ والشملۃ، ص۱۴۶۵، الحدیث:۵۸۱۰ )
مجھ پر کرَم ہو داوَر، اِتنا بروزِ محشر سایہ فِگَن ہو سر پر، میٹھے نبی کی چادر
کیا خوف عاصِیوں کو، محشر کی اب تَپَش کا سایہ کرے گی سر پر، میٹھے نبی کی چادر
مُژدہ ہو عاصیوں کو،بُشریٰ ہو عاصیوں کو آئی شفیع بن کر، میٹھے نبی کی چادر
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد