چاہتے ہیں کیونکہ آپ کے گھر پر کچھ بھی نہ تھا اورجب وہ میزبان طباق بھر کر لے آیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کو سرپر رکھے ہوئے بڑھیا کے مکان کی طرف چل دئیے اور تمام کھانا اس کو دے آئے۔(تَذْکِرَۃُ الْاولیاء(مترجم)،ابو علی دقاق کے حالات ،ص۳۹۱)
ہو مہمان نوازی کا جذبہ عنایت
ہو پاسِ شریعت عطا یا الٰہی!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اِیثار کی اعلٰی مثال
صحابی ٔ سرکار حضرتِ سیِّدُنا سَہْل بن سَعْد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہفرماتے ہیں ، ایک خاتون حضورِ اَنوَر، شفیعِ روزِ محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اَقدَس میں ایک بردہ لے کر حاضر ہوئی۔ حضرتِ سیِّدُنا سَہْل بن سَعْد نے (ابو حازِم سے) کہا: کیا تم جانتے ہو، یہ بُردَہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! یہ ایک چادر ہے جس میں حاشیے بنے ہوئے ہیں اس عورت نے عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے اس کو اپنے ہاتھ سے بُنا ہے تاکہ میں آپ کو پہناؤں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے قبول فرمایا کہ آپ کو اس کی حاجت تھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے تو وہ چادر آپ صَلَّی