Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
188 - 470
میں) وظیفہ5000درہم تھااور آپ تقریباً30,000مسلمانو ں  کے امیر (گورنر) تھے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ  لوگو ں  کو خطبہ دیتے وقت ایک چوغہ پہنتے (جو کپڑوں  پر پہناجاتا ہے) اس کاکچھ حصّہ نیچے بچھاتے اورکچھ اوپر اوڑھ لیتے تھے۔ جب آپ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)کو وظیفہ ملتا اسے صدَقہ کردیتے اورخود زنبیل(یعنی ٹوکریاں  ) بنا کر گزارہ کرتے۔ (حِلْیَۃُ الْاولیاء،ذکر الصحابۃمن المھاجرین ،سلمان الفارسی، ج۱، ص۲۵۵، رقم:۶۲۳)
ہمیں  اپنے فضل و کرَم سے تُو کر دے
سخاوت کی نعمت عطا یا الٰہی!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ابو علی دقّاق کا جذبۂ ایثار
	حضرتِ سیِّدُنا ابوعلی دقّاق عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق  کو کسی نے ’’مرو‘‘ میں  دعوت پر بلایا، راستہ میں  جاتے ہوئے ایک بڑھیا کی آواز کوسنا جو اپنے مکان میں  کہہ رہی تھی کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو نے مجھے کثیر اولاد ہونے کے باوجود فقروفاقہ میں  مُبتَلا رکھاہے آخِر اس میں  تیری کیا مَصْلَحَت ہے؟ آپ اس کے یہ جملے سننے کے بعد خاموشی سے چلے گئے اور جب ’’مرو‘‘ میں  اپنے میزبان کے ہاں  پہنچے، توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایاکہ ایک طباق میں  بہت سا کھانا بھر کے لے آؤ، یہ سن کر وہ شخص بہت خوش ہوا اور یہ خیال کیا کہ شاید آپ گھر پر لے جا کر کھانا