ہیں : صحبتِ پاک مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ تاثیر تھی کہ حضرتِ سیِّدُنا عُمَر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ) صرف غنی نہیں بلکہ غنی تر، غنی گر ہو گئے۔ مانگنا تو کیا بغیر مانگے آتی ہوئی چیز میں بھی ایثار ہی کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنے پر ترجیح دیتے ہیں ۔ اپنے دَورِ خلافت میں جب فارس اور روم کے خزانے مدینہ میں لاتے ہیں ، تو اس وقت بھی خود ایک قمیص ہی دھو دھو کر پہنتے ہیں ۔
مفتی صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں : سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !کیا بے مثال تعلیم ہے مقصد یہ ہے کہ جو بغیر مانگے اور بغیر طمع کے ملے وہ ربّ تعالیٰ کا عطیہ ہے اسے نہ لینا گویا اس عطیہ کی بے قدری ہے۔ دنیا والوں سے اِستِغنااچھا اور اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہمیشہ محتاج رہنا اچھا۔ مشائخِ کِرام (رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام) معمولی نذرانہ بھی قبول کر لیتے ہیں ، ا ن کا ماخذ یہ حدیث ہے پھر کیا خوب فرمایا کہ تم خود لے کر صدَقہ کر دوتاکہ تمہیں لینے کا بھی ثواب ملے اور دینے کا بھی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سَلْمان فارسی کا اِیثار
حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ کا (مدائن کی گورنری