Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
186 - 470
 اِیثار وسخاوت کے حوالے سے بلند ترین نام سیِّدُ الاصفیائ، محبوبِ خدا، احمد ِ مجتبٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، ان کے بعد نبی کی صحبت میں  رہنے والوں  اور نبی کے گھروالوں  کا ہے۔
بھوکے رہ کے خود اَوروں  کو کھلا دیتے تھے
کیسے صابِر تھے محمّد کے گھرانے والے !
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عُمَربن خطاب کا ایثار
	امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ  فرماتے ہیں  کہ نبیِّ کریم، رسولِ عظیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیم مجھے عطیہ دینا چاہتے تو میں  عرْض کرتا کہ یہ مجھ سے زیادہ حاجت مند کو عطا فرمایئے۔ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے یہ خود لے کر غنی ہو جاؤ اور پھر صدقہ کر دو، تمہیں  جو مال بغیر طمع اور بغیر مانگے ملے اسے لے لیا کرو اور جو نہ ملے اس کے پیچھے خود کو نہ لگاؤ۔ 
(مِشْکٰوۃُ الْمَصَابِیْح،کتاب الزکاۃ،باب من لا تحل لہ المسألۃ۔۔۔الخ، ج۱، ص۳۵۱، الحدیث:۱۸۴۵)
	شارِحِ مشکوٰۃ،حکیم ُالا ُمَّت مفتی احمد یارخان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی ’’مِراٰۃُ المناجیح‘‘ جلد3 صَفْحَہ60 پر اِس حدیثِ پاک کی شرح میں  فرماتے