Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
185 - 470
میں  بھی کھانے کو کچھ نہیں  مگر سخاوت وایثار کا ایسا زبردست جذبہ کہ غریب نومسلم کی حاجت روائی کی خاطر قرض لینے کیلئے اپنی مبارک چادر گروی رکھوارہی ہیں  اورجب حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے کھانے میں  سے کچھ گھر کے لئے رکھنے کی عرْض کی تو فرمانے لگیں  : میں  نے یہ کھانا راہِ خدا میں  خیرات کرنے کی نیّت سے پکایا ہے۔ ایک طرف خاتونِ جنت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا پاکیزہ عمل اور دوسری طرف ہماری حالت۔ اللہُ اَ کْبَر! وہ خود فقر وفاقہ میں  رہ کر غریبوں  کی حاجتوں  کو پورا کرتیں  اور ہم اپنے ہی پیٹ بھرنے اور جو باقی بچ جائے اسے بجائے غریبوں  ،فقیروں  پر خرچ کرنے کے آنے والے وقت کے لئے رکھ لیتی ہیں ۔ اے کاش! ہمیں  بھی غریبوں  وفقیروں  کی حاجت روائی کرنے کا جذبہ نصیب ہو جائے۔ سیِّدَہ فاطِمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  اگرچہ خود فاقے سے رہتی تھیں  لیکن اس تنگی وعسرت کے عالم میں  بھی اپنے پڑوسیوں  سے غافل نہ رہتی تھیں  ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا معمول تھا کہ ہمسایوں  کی خبرگیری کرتیں  کہ کوئی بھوکا تو نہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! اپنی ضرورت کو بھی خَلْقِ خدا پر خرچ کر دینا بلکہ خود فاقے سے رہ کربھی بھوکوں  کو سیر کرنا بَتُولی ایثار کی وہ شاندار مثال ہے جس کی ہم سری تو درکنار پیروی کرنا بھی ہم جیسوں  کے لئے مُشکِل ہے، مخلوق میں