میں بھی کھانے کو کچھ نہیں مگر سخاوت وایثار کا ایسا زبردست جذبہ کہ غریب نومسلم کی حاجت روائی کی خاطر قرض لینے کیلئے اپنی مبارک چادر گروی رکھوارہی ہیں اورجب حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے کھانے میں سے کچھ گھر کے لئے رکھنے کی عرْض کی تو فرمانے لگیں : میں نے یہ کھانا راہِ خدا میں خیرات کرنے کی نیّت سے پکایا ہے۔ ایک طرف خاتونِ جنت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا پاکیزہ عمل اور دوسری طرف ہماری حالت۔ اللہُ اَ کْبَر! وہ خود فقر وفاقہ میں رہ کر غریبوں کی حاجتوں کو پورا کرتیں اور ہم اپنے ہی پیٹ بھرنے اور جو باقی بچ جائے اسے بجائے غریبوں ،فقیروں پر خرچ کرنے کے آنے والے وقت کے لئے رکھ لیتی ہیں ۔ اے کاش! ہمیں بھی غریبوں وفقیروں کی حاجت روائی کرنے کا جذبہ نصیب ہو جائے۔ سیِّدَہ فاطِمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اگرچہ خود فاقے سے رہتی تھیں لیکن اس تنگی وعسرت کے عالم میں بھی اپنے پڑوسیوں سے غافل نہ رہتی تھیں ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا معمول تھا کہ ہمسایوں کی خبرگیری کرتیں کہ کوئی بھوکا تو نہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اپنی ضرورت کو بھی خَلْقِ خدا پر خرچ کر دینا بلکہ خود فاقے سے رہ کربھی بھوکوں کو سیر کرنا بَتُولی ایثار کی وہ شاندار مثال ہے جس کی ہم سری تو درکنار پیروی کرنا بھی ہم جیسوں کے لئے مُشکِل ہے، مخلوق میں