بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حُسنِ اَخلاق اور مؤثَّر کلام سے متأثِّر ہو کر وہ بت پرست اسی وقت مسلمان ہو گیا، اب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: تیرے پاس کتنا مال ہے؟ اس نے عرْض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! خدا کی قسم! بنوسُلَیم میں 4,000 آدمی ہیں لیکن اس قبیلے میں مجھ سے زیادہ غریب ومسکین کوئی نہیں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرف دیکھ کر ارشادفرمایا: تم میں سے کوئی ایسا ہے جو اسے ایک اُونٹ خرید کر دے دے؟ حضرتِ سیِّدُنا سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے عرْض کی: میرے پاس ایک اُونٹنی ہے وہ میں اسے دے دیتا ہوں ۔پھر ارشادفرمایا: کون ہے جو اس کا سر ڈھانپ دے؟ امیرُ المؤمنین مولیٰ مشکل کشا، حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنا مبارَک عمامہ اُتار کر اس کے سر پر رکھ دیا۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: کون ہے جو اس کے کھانے کا اس وقت اِنتِظام کر دے؟ حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہاُٹھے اور چند مکانوں پر گئے لیکن اِتّفاق سے کچھ نہ ملا۔ پھر نُورِ مصطفٰے حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مکان پر حاضر ہو کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے پوچھا: کون ہے؟ عرْض کی، سلمان (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)ہوں ۔ فرمایا:کیسے آئے ہو؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سارا ماجرا سنا