فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ایک اِمتِیازی شان ومقام پایا اور جب بھی ان دو خوبیوں کے اظہار کا موقع آیا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بساط بھر اس میں حصّہ لیا حتّٰی کہ اپنی ضرورت کا سامان سائلوں کو عطا کیا، منگتوں کا دامن بھرا اور بھوکوں کو کھانا کھلایا، جیسا کہ
اِیثار وسخاوتِِ فاطِمہ
خطیبِ پاکستان، واعظِ شیریں بیان حضرت علامہ مولانا محمد شفیع اکاڑوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ’’سفینۂ نُوح‘‘ حصّہ دُوُم، صفْحہ33پر نقْل فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُناعبدُاللہ اِبنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : بنی سُلیم میں سے ایک شخص نے بارگاہِ رسالت مآب میں آ کر یوں گستاخی کی: اے محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! کیا تو وہی جادوگر ہے جس کے متعلِّق مشہور ہے کہ اس کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا، خدا کی قسم! اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میری قوم مجھ سے ناراض ہو جائے گی تو میں اس تلوار سے تیرا سر اڑا دیتا۔‘‘ یہ گستاخانہ کلام سن کر امیرُالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے آگے بڑھ کر اس گستاخ کو سبق سکھانا چاہا مگر حضور رحمۃٌ لِّلعٰلَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے روک دیا اور اس شخص سے ارشاد فرمایا: تو آخِرت کے عذاب سے ڈر اور دوزخ سے خوف کھا، بتوں کی پوجا چھوڑ دے اور خدائے وحدہٗ لاشریک کی عبادت کر ، میں جادوگر نہیں ہوں