Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
180 - 470
کلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ارشادفرمایا: اے موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلام)! کوئی شخص ایسا نہیں  کہ وہ عمر بھر میں  چاہے ایک ہی مرتبہ ایثار کرے اور میں  بروزِ قِیامت اُس سے حِساب طلب کرتے ہوئے حیا نہ فرماؤں  ، میں  اس کو اپنی جنت میں  ٹھکانا عطا فرماؤں  گا جہاں  وہ چاہے گا۔
(اِحیاء الْعُلُوم،کتاب ذم البخل وذم حب المال ،بیا ن الایثار وفضلہ، ج۳، ص۳۱۸ )
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! جگر گوشۂ رسول حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء بتول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی حیاتِ مبارَکہ اور سیرتِ طیِّبہ کا ہر پہلو بیش بہا کمالات اور اَنمٹ خصوصِیّات کا مظہر ہے۔ دینِ اسلام کی بے لَوث خدمت، نسبی وازدواجی ودینی رشتوں  سے بے پناہ محبت اور اولاد کی بہترین تربِیّت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بہترین اَخلاق کا ایک حصّہ ہے۔ اعلیٰ اَقدارِ انسانی کا تحفُّظ، خلقِ خدا کی خیر خواہی، بے کسوں  اوربے چاروں  کی چارہ گری آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے نمایاں  اَوصاف میں  سے ہے۔ اس خیرخواہی،چارہ گری اور فریاد رسی کی ایک جھلک بیان کے ابتدائی واقعہ میں  آپ مُلاحَظہ فرما چکی ہیں ۔
	ایثار وسخاوت دو وصف ہیں  : اپنی ضرورت کے سوا کو خیرات کرنا ’’سخاوت‘‘ اور ضرورت کا بھی خیرات کر دینا ’’ایثار‘‘ کہلاتا ہے۔ دیگر اَوصافِ حمیدہ کے ساتھ ساتھ ایثار وسخاوت جیسی خوبیوں  میں  بھی حضرتِ سیِّدَتُنا