کنجوسی باطِن کا روگ
پیاری پیاری اسلامی بہنو! یہ بات پیشِ نظَر رہے کہ دُنیوِی مال ومتاع اس وقت تک آخِرت کا سامان نہیں بنتا جب تک اسے آخرت کے اِرادے سے خرچ نہ کیا جائے اور کنجوس آدمی نہ بندوں میں نیک نام اورنہ ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول وعزیز ہوتا ہے، کنجوسی باطن کا روگ ہے جو لگ جانے کے بعد کبھی نہیں جاتا اور کنجوس، مال کو کسی نیک کام کے لئے بھی خرچ نہیں کرتا حالانکہاللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے خود بھی فائدہ اٹھانا چاہئے اور دوسروں کو بھی فائدہ دینا چاہئے یعنی خود بھی کھانا چاہئے اور فقرا وغربا پر خرچ کرکے آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کرنا چاہئے۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو!خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سخاوت پرمشتمل روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہاللہ والوں کو مال ودولت کی لالچ نہیں ہوتی جبکہ دنیا والوں کو مال ودولت کی حِرص ہوتی ہے۔ جو زاہد مال و دولت کو پسند کرے وہ حقیقت میں زاہد نہیں ۔اللہتعالیٰ کے نیک بندے کھانے پینے اور مال ومتاع کے شیدائی نہیں ہوتے، سخاوت کی عادت بلند اَخلاق کی سَنَد ہے، سخاوت کرنے سے دشمن بھی سر جھکا کر غلام بن جاتے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد