Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
177 - 470
صَحابی، عاشقِ اکبر حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ اپنا سارا مال چار ہزار درہم لے کر حاضرِ بارگاہ ہو گئے ، نبیِّ مختار، دوعالَم کے تاجدار، شَہَنشاہِ اَبرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (اِ س اِیثار کو دیکھ کر) استِفسارفرمایا: کیا اپنے گھر بار کے لئے بھی کچھ چھوڑا؟  عَرض گزار ہوئے: ’’ان کے لیے میں  اللہ  اور اُس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں ۔‘‘ (مطلب یہ کہ میرے اور میرے اہل وعیال کے لئے اللہ و رسول کافی ہیں  )۔
 (سُبُلُ الْھُدٰی وَالرِّشَادْ فِیْ سِیْرَۃِ خَیْرِ الْعِبَاد،الباب الثلاثون فی غزوۃ التبوک۔۔۔الخ، ج۵، ص۴۳۵)
	شاعر نے اِس جذبۂ جاں  نثاری کو یوں  نظْم کیا ہے:
اِ تنے میں  وہ رفیقِ نُبُوَّت بھی آگیا	جس سے بِنائے عشق ومحبت ہے اُستُوار
لے آیا اپنے ساتھ وہ مردِ وَفا سَرِشت	ہر چیز جس سے چشْمِ جہاں  میں  ہو اِعتبار
بولے حُضور، چاہیے فکرِ عِیال بھی	کہنے لگا وہ عشق و مَحَبَّت کا راز دار
ہے تجھ سے دِیدۂ مَہ واَنجُم فَروغ گِیر(1)	ہے تیری ذات باعثِ تکوینِ روزگار
پروانے کو چَراغ ہے بُلبل کو پھول بس
صِدِّیق کے لیے ہے خدا کا رَسول بس
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد


________________________________
1 - … اے وہ ذات کہ جس سے چاند اور تاروں  کی آنکھیں  روشنی حاصل کرتی ہیں ۔