Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
176 - 470
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: مَنِ اقْتَصَدَ اَغْنَاہُ اللہُ، وَمَنْ بَذَّرَ اَفْقَرَہُ اللہُ یعنی جو شخص (اَخراجات میں  ) اِعتِدال قائم رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے مالدار بنا دیتا ہے اور جو آدمی ضرورت سے زائد خرچ کرتا ہےاللہ تعالیٰ اسے فقیر کر دیتا ہے۔
(کَنْزُ الْعُمَّال،کتاب الاخلاق،الاقتصاد والرفق فی المعیشۃ،ج۲ الجزء الثالث، ص۲۴، الحدیث۵۴۳۴)
ضَرورت سے زیادہ مال ودولت کا نہیں  طالِب
رہے بس آپ کی نظرِعنایت یارسولَ اللہ!
(وسائل بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۱۸۶)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ہاں  ! جوشخص توکُّل کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو وہ راہِ خدا میں  سارا مال خرچ کر سکتا ہے جیسا کہ
یارِ غار کا مالی ایثار
	( غزوۂ تَبُوک کے موقَع پر) نبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیم نے راہ خدا میں  مال خرچ کرنے کی ترغیب ارشادفرمائی۔( محبوبِ رَحمن، شاہِ کون ومکان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِس فرمانِ رغبت نشان کی تعمیل کرتے ہوئے)صحابۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اپنا کثیر مال راہِ خدا میں  لائے سب سے پہلے صَحابی اِبنِ