Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
175 - 470
فرماتے ہیں  : یہ تمثیل ہے جس سے اِنفاق یعنی خرچ کرنے میں  اِعتِدال ملحوظ رکھنے کی ہدایت منظور ہے اوریہ بتایا جاتا ہے کہ نہ تو اس طرح ہاتھ روکو کہ بالکل خرچ ہی نہ کرو اور یہ معلو م ہو گویا کہ ہاتھ گلے سے باندھ دیا گیا ہے، دینے کے لئے ہل ہی نہیں  سکتا۔ ایسا کرنا تو سببِ ملامت ہوتا ہے کہ بخیل کنجوس کو سب بُرا کہتے ہیں  اور نہ ایسا ہاتھ کھولو کہ اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہے۔ (تفسیر خزائن العرفا ن،پ۱۵، بنی اسرائیل، تحت الایہ:۲۹)
	ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷) (پ۱۹ الفرقان:۶۷)
ترجَمۂ کنزالایمان:اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں  ، نہ حد سے بڑھیں  اور نہ تنگی کریں  اور ان دونوں  کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔
	حدیثِ پاک میں  بھی اعتِدال میں  رہنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی،  چُنانچِہ فقیہِ اُمّتِ محبوب حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم، صاحبِ خُلْقِ عظیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ یعنی جو شخص اِعتِدال اِختِیار کرے گا تنگدست نہیں  ہو گا۔(شُعَبُ الْاِیْمَان، باب الاقتصاد فی النفقۃ۔۔۔الخ، ج۵، ص۲۵۵، الحدیث:۶۵۶۹)
	ایک اور روایت میں  رسولوں  کے سالار، نبیوں  کے تاجدار صَلَّی اللہُ