سخاوت تیرے گھر کی ہے عنایت تیر ے گھر کی ہے
تِرے دَرکا سُوالی جھولیاں بَھر بَھر کے لاتا ہے
(وسائلِ بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ،ص۳۱۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے سخاوت کے بارے میں اَحادیثِ مبارَکہ اور اَسلافِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے واقِعات اورآخِر میں پیارے آقا، مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سخاوت کے متعلِّق بھی مُلاحَظہ فرمایا۔ سخاوت کرتے وقت یہ بات ذہن نشین رہے کہ اتنا مال خرچ نہ کرے کہ اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہے اور لوگوں سے سوال کرنا پڑے۔ لہٰذا خرچ کرنے اور مال روکنے دونوں میں اِعتِدال اور میانہ روی سے کام لینا چاہئے۔
پارہ 15 سُوْرَۂ بَنِیْ اِسْرَائِیْلآیت نمبر29میں ارشادِ ربِّ جلیل ہے:
وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹) (پ۱۵، بنی اسرائیل: ۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہو۔
خلیفۂ اعلیٰ حضرت،صدرُ الافاضِل سیِّد حافظ مفتی محمَّد نعیم ُا لدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’تفسیرِخزائن ُ العِرفان‘‘ میں اس آیَتِ مبارَکہ کے تحت تحریر