ہے۔‘‘ (جمع الجوامع،حرف الطاء،الطاء مع العین، ج۵، ص۱۱۸، الحدیث:۱۳۸۹۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میرےآ قا کی سخاوت
ایک مسلمان بی بی کے سامنے ایک یہودیہ نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کی سخاوت کا بیان کیا اور اس میں اس حد تک مُبالَغہ کیا کہ حضرتِ سیِّد ِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ترجیح دے دی اور کہا کہ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ َعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سخاوت تو اس انتہا پر پہنچی ہوئی تھی کہ اپنی ضروریات کے علاوہ جو کچھ بھی ان کے پاس ہوتا سائل کو دے دینے سے دریغ نہ فرماتے ، یہ بات مسلمان بی بی کو ناگوار گزری اور انہوں نے کہا کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سب صاحبِ فضل و کمال ہیں ، حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جُود و نوال میں کچھ شبہ نہیں لیکن سیِّد ِعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مرتبہ سب سے اعلیٰ ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے چاہا کہ یہودیہ کو حضرتِ سیِّد ِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جُودوکرَم کی آزمائش کرا دی جائے ، چُنانچِہ انہوں نے اپنی چھوٹی بچّی کو حضور عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیم کی خدمت میں بھیجا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قمیص مانگ لائے، اس وقت حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ایک ہی قمیص تھی جو زیبِ تن تھی وہی اُتار کر عطا فرما دی۔(تَفْسِیْرِ خَزَائِنُ الْعِرْفَان،پ۱۵،بنی اسرائیل ،تحت الایہ:۲۹، ص۵۳۱)