Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
172 - 470
کے چند غلاموں  کا اِنتِقال ہو گیا ہے، میں  ان کا مال لے کر آپ  کی خدمت میں  حاضر ہوا ہوں ۔ یہ تیس ہزار (30,000) درہم آپ کے ہیں  انہیں  قبول فرما لیں ۔‘‘
	حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم  نے اس مال کے تین حصّے کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ایک تمہارے لئے کیونکہ تم سفر کی صعوبتیں  اور مُشکِلات بر داشت کر کے یہاں  پہنچے ہو، دوسراحصّہ لے جاؤ اور اسے بلخ کے غرباء ومساکین میں  تقسیم کر دینا۔
	 پھر آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طرف متوجّہ ہوئے جن کے با غ میں  آپ بطورِ اجیر (ملازِم) کام کرتے تھے، ان سے فرمایا: ’’یہ ایک حصّہ تم لے لو اور اسے ’’عسقلان‘‘ کے غربا وفقرا میں  تقسیم کر دینا۔‘‘ اتنا کہنے کے بعدآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وہاں  سے تشریف لے گئے اور ان تیس ہزار (30,000)  دراہم میں  سے ایک درہم بھی خود نہ لیا۔(عُیونُ الحکایات، ص۷۱،  مُلخَّصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سخی کا کھانا دوا ہے!
	شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالِک ومُختار، حبیبِ پروَرْدْگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’سخی کا کھانا دوا اور بخیل کا کھانا بیماری