اور سخاوت سے تقوِیّت بخشی اور جب اللہ تعالیٰ نے کُفر کو پیدا فرمایا تو اس نے عرْض کیا: اے اللہ! مجھے قوّت بخش، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بُخل اور بَدخلقی سے تقو ِیّت بخشی۔(مکاشفۃ القلوب،باب فی فضل حسن الخلق، ص۴۰۸، کوئٹہ)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ابراہیم بن اَدْہَم کی سخاوت
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطْبوعہ412 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب’’عُیُونُ الحِکایات ‘‘حصّہ اوّلصَفْحَہ110پرذکر کردہ حِکایت کا خُلاصہ ہے: حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن اسود کلابی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو اپنے باغ کی دیکھ بھال کے لئے اجیر(یعنی ملازم) رکھا، تقریباً ایک سال بعد میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ باغ میں گیا ایک شخص عمدہ اُونٹ پر سوار ہو کر ہمارے پاس آیا اور اس نے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے بارے میں پوچھا،میں نے اسے بتایا کہ’’ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فلاں جگہ موجو د ہیں ۔‘‘ وہ شخص آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس آیا، دست بوسی کی اور نہایت مؤدِّبانہ انداز میں کھڑا ہو گیا۔ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے آنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا:’’میں ’’بلخ‘‘ شہر سے آیا ہوں ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ