صفْحات پر مُشتمِل کتاب ’’ضیائے صدَقات ‘‘ صفْحہ219 پر ہے: حضرتِ سیِّدُنا امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہٗ فرماتے ہیں :عقل سے زیادہ مددگار کوئی مال نہیں ، جہالت سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں ، مشورہ سے بڑھ کر کوئی پشت پناہ نہیں ۔ سنو!اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا: میں جوّاد و کریم ہوں کسی بخیل کے لئے مجھ سے راہِ فرار نہیں اور بخل کفر (ناشکری) سے ہے اور کفّار (نافرمان) جہنَّم میں جائیں گے جبکہ جُود وکرَم ایمان کا حصّہ ہے اور اہلِ ایمان جنّت میں جائیں گے۔(اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن، کتاب ذم البخل وذم حُبِّ المال، بیان فضیلۃ السخاء،ج۳، ص۳۰۴)
ایمان پہ دے موت مدینے کی گلی میں مدفن مِرا محبوب کے قدموں میں بنا دے
ہو بَہرِ ِضیا نظَرِ کرَم سُوئے گنہگار جنّت میں پڑوسی مِرے آقا کا بنا دے
(وسائل بخشش از امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ، ص۱۰۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
انوکھا اندازِ سخاوت
حضرتِ سیِّدُنا عُروَہ بن زُبَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکے جُودوسَخاوت کا یہ عالَم تھا کہ جب باغ میں پھل پک کر تیّار ہو جاتے تو اِحاطے کی دیوار میں شِگاف فرما دیتے پھر لوگوں کو اجازت دیتے کہ وہ آکر کھائیں اور اُٹھا کر بھی لے جائیں ۔ دیہاتی لوگ باغ کے گرد آتے،پس وہ اس میں داخل ہو کر پھل کھاتے