وراثت میں 50,000 درہم ملے تو انہوں نے تھیلیاں بھر بھر کر اپنے بھائیوں کو تقسیم کر دیں اور فرمایا کہ میں نماز میں اللہ تعالیٰ سے اپنے بھائیوں کے لئے جنّت کا سوال کیا کرتا تھا تو مال میں ان سے بخل کیوں کروں ؟ (المرجع السابق، ص۳۰۵)
سخاوت کی خصلت عنایت ہو یا ربّ!
دے جذبہ بھی ایثار کا یا الٰہی!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بہترین سخاوت
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ324 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب’’152رحمت بھری حکایات‘‘ صَفْحَہ163پرہے: حضرتِ سیِّدُنا ابو سلیمان عبدُ الرَّحمن بن احمد بن عَطِیَّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : بہترین سخاوت وہ ہے جو حاجت کے مطابق ومُوافق ہو (کہ سامنے والے کو جس چیز کی حاجت ہو وہ دی جائے)۔
(شعب الایمان ،الرابع والسبعون من شعب الایمان ، باب فی الجود والسخاء، ج۷،ص۴۴۷،الحدیث: ۱۰۹۳۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جُود و کرَم ایمان کا حصّہ
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 415