Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
167 - 470
	 دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطْبوعہ417 صفْحات پر مُشتمِل کتاب ’’احیاء ُ العلوم کا خُلاصہ ‘‘ صفْحہ265 پر حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام ابو حامِد محمد بن محمد غزالی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی  حدیثِ پاک نقْل فرماتے ہیں  : ’’فَاَکْرِمُوْہٗ بِھِمَا مَا صَحِبْتُمُوْہٗ ترجمہ: جب تک اس دین پر رہو ان دونوں  چیزوں  کے ذریعے اس کا اِحتِرام کرو۔‘‘(المعجم الاوسط، من اسمہ مقدام، ج۶، ص۳۲۳، الحدیث:۸۹۲۰ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سخاوَت کسے کہتے ہیں  ؟
	حضرتِ سیِّدُنا امام حَسَن بصری عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے پوچھا گیا کہ سخاوت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: سخاوت یہ ہے کہ تو اپنا مال اللہ  تعالیٰ کے راستے میں  خرچ کر دے۔(اِحْیَاء عُلُوْمِ الدِّیْن،کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان فضیلۃ السخاء،ج۳، ص۳۰۴) 
تھیلیاں  بھر بھر کر تقسیم فرما دیں
	حضرتِ  سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے پوچھا گیا کہ سخاوت کسے کہتے ہیں  ؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا: (مسلمان) بھائیوں  سے نیکی کا سُلُوک کرنا اور مال عطا کرنا سخاوت ہے۔ فرمایا: میرے والد ِماجدکو