کرتے جیساکہ آپ نے حدیثِ فاطمہ میں مُلاحَظہ فرمایا کہ وقت اِفطار کے لئے جو تین صاع جَو لائے وہ بجائے اس میں کچھ رکھنے کے سب کے سب سائلین پر یکے بعد دیگرے خیرات کر دیئے اور اپنے لئے کچھ بھی نہ رکھا یہ اعلیٰ قسم کی سخاوت تھی اور پھر ان کو جس انعام سے نوازا گیا وہ بھی کم نہیں کہ تاقیامت پڑھی جانے والی کتاب میں اللہُ رَبُّ الْعُلٰی عَزَّوَجَلَّ نے ان کا تذکِرہ فرما دیا جو کہ آپ ابتدائی صفْحات میں مُلاحَظہ فرما چکی ہیں ۔ اب یہاں سخاوت کے متعلِّق کچھ مدَنی پھول اور اَسلافِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ارشاد ات وواقعات نقْل کئے جائیں گے تاکہ ان کی سخاوت سے ہمیں بھی کچھ حصّہ مل جائے۔ یہ بات ہمیشہ پیشِ نظَر رکھنی چاہئے کہ سخاوت کرنے سے ہمیشہ فائِدہ ہی ہوتا ہے اورمال بھی گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے۔ دینِ اسلام کی تبلیغ بھی سخاوت و حسنِ اَخلاق پر مُنحصِر ہے ، جیساکہ
دینِ اسلام کی اِصلاح کس پر منحصر ہے
رسولوں کے سالار،نبیوں کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے: ’’یہ وہ دین ہے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے لئے چن لیا اور تمہارے دین کی اصلاح سخاوت اور حُسنِ اَخلاق ہی پر منحصر ہے، پس ان دونوں کے ساتھ اپنے دین کو آراستہ کرو۔‘‘
(جمع الجوامع، قسم الاقوال، ج۲، ص۲۳۲، الحدیث:۵۲۵۳)