کرے اور کفّارہ ادا کرے،(1) اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے(2)کہ اس نے ربّ تعالیٰ کے نام کی بے حرمتی کی، مگر جو کام کسی عارِضہ کی وجہ سے ممنوع ہوں ان کی نذْر درست ہے، یا ان کی قضا کرے یا کفارہ دے جیسے عید کے دن کے روزے یا طلوعِ آفتاب کے وقت نفل پڑھنے کی منّت کہ یہ منّت دُرُست ہے۔
(مرآۃ المناجیح،کتاب الایمان والنذور،باب فی النذور،الفصل الاول ،ج۵،ص۲۰۳)
{2 }… مُفَسِّرِقراٰن حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ اِبنِ عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ نبیِّ کریم، صاحبِ خُلْقِ عظیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا دیکھا، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے متعلِّق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو اسرائیل ہے اس نے نذْر مانی ہے کہ کھڑارہے گا، نہ بیٹھے گا،نہ سایہ لے گا،نہ کلام کرے گااور روزے رکھے گا، تو نُور کے پیکر، اَنبیاء کے سرور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اسے حکم دو کہ
________________________________
1 - … چُنانچِہ ’’دُرِّمختار‘‘ میں ہے، ’’جس نے کوئی گناہ کرنے کی قسم کھائی مثلاً والدین سے کلام نہیں کرے گا یا آج فلاں کو قتل کرے گا تو اس پر واجب ہے کہ قسم توڑ دے اوراس کا کفارہ ادا کرے۔‘‘(الدُرُّ المُخْتَار،کتاب الاَیمان، ص۲۸۳)
2 - … جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے، ’’کَفَّارَۃُ النَّذْرِ کَفَّارَۃُ الْیَمِینِیعنی نذر کا کفارہ قسم کا ہی کفارہ ہے۔‘‘ (صَحِیْح مُسْلِم، کتاب النذر،باب کفارۃ النذر،ص۶۴۳، الحدیث:۱۶۴۵) اور قسم کا کَفّارہ تین (3) طرح کا ہے…غلام آزاد کرنا… یا 10 مسکینوں کو کھانا کھلانا…یا پھر 10 مسکینوں کو کپڑے پہنانا۔ یعنی یہ اِختِیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔(تَبْیِیْنُ الْحَقَائِق،کتاب الایمان، ج۳، ص۴۳۰)اور اگر غلام آزاد کرنے یا دس مسکین کو کھانا یا کپڑے دینے پر قادر نہ ہو تو پے در پے تین روزے رکھے۔(الفتاوٰی الھندیۃ، کتاب الایمان، الباب الثانی…الخ، الفصل الثانی فی الکفارۃ،ج۲،ص۶۸)