Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
161 - 470
’’نذْر‘‘ کے تین حروف کی نسبت سےنذْر کے متعلّق 3 اَحادیثِ مبارَکہ
{1}… اُمُّ المؤمنین زوجۂ سیِّدُالمرسلین سیِّدَہ، عالِمہ حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ نُور کے پیکر،اَنبیاء کے سروَر، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’مَنْ نَذَرَ اَنْ یُّطِیْعَ اللہَ فَلْیُطِعْہُ وَمَنْ نَذَرَ اَنْ یَّعْصِیَہُ فَلَا یَعْصِہٖیعنی جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی اِطاعت کی نذْر مانے وہ اس کی اِطاعت کرے اور جو اس کی نافرمانی کی نذْر مانے، وہ نافرمانی نہ کرے۔
(صَحِیْحُ الْبُخَارِی،کتاب الایمان والنذور،باب النذرفی الطاعۃ،ص۱۶۳۵، الحدیث:۶۶۹۶)
	شارِحِ مشکوٰۃ، حکیم ُالا ُمَّت مفتی احمد یارخان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی ’’مِراٰۃُ المناجیح‘‘ جلد5 صَفْحَہ203 پر اس حدیثِ پاک کی شرح میں  فرماتے ہیں  : کیونکہاللہ  تعالیٰ کی عبادت تو ویسے بھی کرنی چاہئے اور جب نذْر مان لی تو بدرجہ اَولیٰ کرنی چاہئے۔ خیال رہے کہ جو کام بذاتِ خودگناہ ہو، اس کی نذْر دُرُست ہی نہیں  جیسے شراب پینے، جوأ کھیلنے، کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے کی نذْرکہ ایسی نذریں  باطل ہیں  ان کا پور ا کرنا حرام، مگر ان پر کَفَّارہ واجب ہے کہ یہ کام ہر گز نہ