Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
163 - 470
کلام کرے، سایہ لے لے اور بیٹھ جائے اور اپنا روزہ پورا کرے۔
 (صَحِیْحُ الْبُخَارِی،کتاب الایمان والنذور،باب النذرفیما لا یملک وفی معصیۃ، ص۱۶۳۶، الحدیث:۶۷۰۴)
	شارِحِ مشکوٰۃ، حکیم ُالا ُمَّت مفتی احمد یارخان نعیمی  عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی ’’مراٰۃُ المناجیح‘‘ جلد 5 صَفْحَہ 204 پر اس حدیثِ پاک کی شرح میں  فرماتے ہیں  : سب لوگ بیٹھ کر خطبہ سن رہے تھے مگر یہ صاحب حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے کھڑے ہو کر سن رہے تھے، اس سے معلوم ہواکہ خطبہ پڑھنا کھڑے ہو کر سنت ہے اور سننا بیٹھ کر سنّت، اسی لئے تو حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے کھڑے ہونے پر تعجُّب فرمایا۔
	مفتی صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  مزید فرماتے ہیں  :خاموش رہنا، سایہ میں  نہ بیٹھنا کوئی عبادت نہیں  بلکہ حرام ہے کیونکہ نماز میں  قرأت فرض ہے اور التحیات میں  بیٹھنا واجب بھی ہے فرض بھی، اس طرح ہمیشہ کھڑا رہنا طاقت انسانی سے باہر ہے یہ نذر توڑدے مگر روزہ چونکہ عبادت ہے اس لئے اسے پورا کرے۔ خیال رہے کہ ابو اسرائیل نے ہمیشہ کھڑے رہنے، ہمیشہ خاموش رہنے، سایہ میں  نہ بیٹھنے ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مانی تھی، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہلی نذریں  توڑنے کا حکم دیا مگر روزے کی نذر پوری کرنے کی تاکید فرمائی جوکو ئی ہمیشہ