Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
160 - 470
 کتاب  ’’اُمّہاتُ المؤمنین‘‘صفْحہ 43،44 میں  ذکر کردہ کلام کا خُلاصہ ہے: جب اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سرکار ابد ِقرار، شفیعِ روزِ شمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نکاح کے متعلِّق قراٰنِ پاک کی یہ آیتِ مبارَکہ نازِل ہوئی: 
فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا (پ۲۲، الأحزاب:۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب زید کی غرَض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں  دے دی۔
	 تو حضور پُر نور، شافِعِ یومُ النُّشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسکراتے ہوئے ارشادفرمایا کہ کون ہے جو زینب کے پاس جائے اور اس کو یہ خوشخبری سنائے کہاللہتعالیٰ نے میرا نکاح اس کے ساتھ فرما دیا ہے۔ یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خادِمہ حضرتِ سیِّدَتُنا سلمیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  دوڑتی ہوئی حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس پہنچیں  اور یہ آیت سنا کر خوشخبری دی۔ حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  اس بشارت سے اس قدَر خوش ہوئیں  کہ اپنا زیور اُتار کر اس خادِمہ کو اِنعام میں  دے دیا، سجدۂ شکر بجا لائیں  اور نذْر مانی کہ 2 ماہ روزہ دار رہوں  گی۔ (مَدَارِجُ النُّبُوّت(مترجم)، باب دوم ذکر امھات المؤمنین۔۔۔الخ،ج۲،ص۶۴۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد