Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
158 - 470
	پارہ 21، سُوْرَۃُ الاَحْزَاب، آیت نمبر 23 میں  اِرشادہوتا ہے: 
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ(۲۳) 
(پارہ۲۱، الأحزاب:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:مسلمانوں  میں  کچھ وہ مرد ہیں  جنہوں  نے سچا کر دیا جو عہداللہ  سے کیا تھا تو ان میں  کوئی اپنی منّت پوری کرچکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرا نہ بدلے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کون سی منّت مانی جائے؟
	پیاری پیاری اسلامی بہنو! معلوم ہوا کہ منّت مانناجائز ہے اورجائز منّت پوری کرنے پر مدح سے بھی نوازا گیا ہے جیسا کہ آپ نے ذکر کردہ آیتِ مبارَکہ میں  مُلاحَظہ فرمایا۔ یہ بھی یا درہے کہ اگر کسی گناہ  کی منّت مانی ہو تو اسے ہر گز ہرگز پورا نہ کیا جائے،  چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطْبوعہ 1182 صَفْحات پر مُشْتَمِل کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘جلد دُوُم صَفْحَہ318 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمّد اَمجد علی اَعظمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی منّت کے متعلق بَہُت ہی اہم مسئلہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :بعض جاہل عورتیں  لڑکوں  کے کان ناک چھدوانے اور بچوں  کی چوٹیا رکھنے کی منّت مانتی ہیں  یا اور طرح طرح کی ایسی منتیں  مانتی ہیں  جن کا