Brailvi Books

شانِ خاتونِ جنّت
157 - 470
 کو پورا کیا تو ان کی مدح میں  اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ  نے پارہ29 سُوْرَۃُ الدَّھْر کی آیت نمبر 7 میں  ارشاد فرمایا: 
یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا(۷) (پ۲۹، الدھر:۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اپنی منتیں  پوری کرتے ہیں  اور اُس دن سے ڈرتے ہیں  جس کی برائی پھیلی ہوئی ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صحابۂ کرام کا منّت ماننا
	خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُ ا لافاضِل سیِّد حافِظ مفتی محمَّد نعیم ُا لدِّین مُراد آبادی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’تفسیرِ خزائن ُ العِرفان‘‘ میں  فرماتے ہیں  حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی اور حضرتِ سیِّدُنا طلحہ اور حضرتِ سیِّدُنا سعید بن زید اور حضرتِ سیِّدُناحمزہ اور حضرتِ سیِّدُنامُصعب وغیرہم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے نذر مانی تھی کہ وہ جب رسولِ کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیم کے ساتھ جہاد کا موقع پائیں  گے تو ثابت رہیں  گے یہاں  تک کہ شہید ہو جائیں  ، ان کی نسبت اس آیت میں  اِرشاد ہوا کہ انہو ں  نے اپنا وعدہ سچا کر دیا۔ (خزائن العرفان، پ۲۱،الاحزاب: تحت الایہ:۲۳،ص۷۷۷) اور حضرتِ سیِّدُناحمزہ ومصعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  شہید ہو گئے ، چُنانچِہ