خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُ ا لافاضِل سیِّد حافِظ مفتی محمَّد نعیم ُا لدِّین مُراد آبادی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’تفسیرِ خزائن ُ العِرفان‘‘ میں اس آیَت ِ مبارَکہ کے تحت تحریر فرماتے ہیں :شرع میں نذر عبادت اور قربتِ مقصودہ ہے اسی لئے اگر کسی نے گناہ کرنے کی نذر کی تو وہ صحیح نہیں ہوئی نذر خاص اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتی ہے اور یہ جائز ہے کہ اللہ کے لئے نذر کرے اور کسی ولی کے آستانہ کے فقرا کو نذر کے صرف کا محل مقرَّر کرے مثلاً کسی نے یہ کہا، یاربّ! میں نے نذر مانی کہ اگر تو میرا فلاں مقصد پورا کردے کہ فلاں بیمار کو تندرست کردے تو میں فلاں ولی کے آستانہ کے فقراء کو کھانا کھلاؤں یا وہاں کے خدّام کو روپیہ پیسہ دوں یا ان کی مسجد کے لئے تیل یا بوریا حاضر کروں تو یہ نذر جائز ہے۔
(تفسیرخزائن العرفان، پ۳، البقرۃ، تحت الاٰیۃ:۲۷۰، ص۹۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
منّت پوری کرنے والوں کی مدح سرائی
اپنی منّت کو پورا کرنا قابلِ تعریف اور ثواب کا کام ہے جیسا کہ امیرُالْمُؤْمِنِیْن حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَـــہ الْکَرِیْم و حضرتِ سیِّدَتُنا بی بی فاطِمہ اور خادِمہ حضرتِ سیِّدَتُنا فِضَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضراتِ حَسَنَینِ کریمَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی شفایابی پر روزوں کی منّت